Pages

Friday, November 30, 2012

مجھ سے پوچھتے ہیں لوگ کس لئیے دسمبر میں


مجھ سے پوچھتے ہیں لوگ
کس لئیے دسمبر میں
یوں اداس رہتا ہوں
کوئی دکھ چھپاتا ہوں
یا کسی کے جانے کا
سوگ میں مناتا ہوں


آپ میرے البم کا
صفحہ صفحہ دیکھیں* گے
آئیے دکھاتا ہوں
ضبط آزماتا ہوں


سردیوں کے موسم میں
گرم گرم کافی کے
چھوٹے چھوٹے سپ لے کر
کوئی مجھ سے کہتا تھا
ہائے اس دسمبر میں
کس بلا کی سردی ہے
کتنا ٹھنڈا موسم ہے
کتنی یخ ہوائیں ہیں


آپ بھی عجب شے ہیں
اتنی سخت سردی میں
ہو کے اتنے بے پروا
جینز اور ٹی شرٹ میں
کس مزے سے پھرتے ہیں


شال بھی مجھے دے دی
کوٹ بھی اڑھا ڈالا


پھر بھی کانپتی ہوں میں


چلئیے اب شرافت سے
پہن لیجئے سویٹر
آپ کے لئیے میں* نے
بن لیا تھا دو دن میں


کتنا مان تھا اس کو
میری اپنی چاہت پر


اب بھی ہر دسمبر میں
اسکی یاد آتی ہے


گرم گرم کافی کے 
چھوٹے چھوٹے سپ لے کر
ہاتھ گال پر رکھے
حیرت و تعجب سے
مجھ کو دیکھتی رہتی
اور مسکرا دیتی


شوخ و سرد لہجے میں
مجھ سے پھر وہ کہتی تھی
اتنے سرد موسم میں
آدھی سلیوز کی ٹی شرٹ!ٓ
اس قدر نہ اترائیں
سیدھے سیدھے گھر جائیں
اب کی بار جب آئیں
براؤن ٹراؤزر کے ساتھ
بلیک ہائی نیک پہنیں
کوٹ کوئی ڈھنگ سا لے لیں
ورنہ میں* قسم سے پھر ایسے روٹھ جاؤں* گی
سامنے نہ آؤں گی
ڈھونٹتے ہی رہئیے گا
پاس بیٹھے ابّو کے
پالٹیکس پر کیجئے گرم گرم ڈسکشن
کافی لے کے کمرے مِیں مَیں تو پھر نہ آؤں* گی
خالی خالی نظروں* سے آپ ان خلاؤں* میں 
یوں ہی تکتے رہئیے گا
اور بے خیالی پر ڈانٹ کھاتے رہئیے گا


کتنی مختلف تھی وہ
سب سے منفرد تھی وہ
اپنی ایک لغزش سے
میں نے کھو دیا اسکو


اب بھی ہر دسمبر میں
اسکی یاد آتی ہے

No comments:

Post a Comment