Pages

Thursday, August 14, 2014

Aatif Saeed Ek Shair



محبتوں میں اگر اعتدال آجاتا 
یقین کر میرے دکھ کو زوال آجاتا...!
--



کس قدر غنیمت تھا میرا بے خبر رہنا 
سوچتا ہوں کیوں میں نے آگہی کی خواہش کی
--


میرے ہر شعر میں آتے ہیں حوالے تیرے 
جُز مرے کون یہ دکھ درد سنبھالے تیرے
--


تجھ سے بچهڑا هوں تو اکثر میں یھی سوچتا ھوں
زندگی اور قیامت تو نھیں ھو سکتی...!
--


میں تو جس راستے په چلتا هوں
وه تیری سمت جا نکلتا ھے...!
--


آج سارا دن تمهاری یاد کے بادل رهے
آج ساری رات اپنی دهڑکنیں گنتا رها...!
--


بهیگی آنکهیں یوں مسکرائی هیں
جیسے سورج کے گهر گئی بارش...!
--


کتنی لھریں شعروں میں ڈهل جاتی هیں
سوچ کے پانی میں جب پتهر گرتے هیں...!
--


روٹھ بهی جائے یه محبت تو
مخملیں سا حصار رهتا ھے..!
--


میرے خوابوں کو بهٹکنے سے بچانے کے لئے
شب کی دهلیز په یادوں کا دیا رھنے دے...!
--


میں هر اس شے سے ڈرتا هوں
تجهے جو چهین سکتی هے...!

--

Aatif Saeed ..!